باری باری
قسم کلام: متعلق فعل
معنی
١ - بار بار۔ نہ ہو اتنا بے تاب اور بے حواس فغاں درد سے باری باری نہ کر ( ١٨٠٢ء، بہار دانش، طپش، ٤٦ ) ٢ - نمبروار، سلسلے یا ترتیب سے، یکے بعد دیگرے۔ مخلوق خدا میں باری باری رہتا ہے سب کا کام جاری ( ١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ٢١٩ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم مؤنث 'باری' کی تکرار سے اردو میں 'باری باری' مرکب بنا اور بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٨٠٢ء میں "بہار دانش" میں مستعمل ملتا ہے۔